٢٩ اکتوبر ١٩٣٠ء کو مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب کی خدمت میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی تو آپ اشاعت ِ اسلام کے چند فطری،آفاقی اور انوکھے انداز بیان کر رہے تھے۔ آپ نے پہلے ایک تمہیدی تقریر ارشاد فرمائی، جس کا خلاصہ یہ ہے: ''قبول اسلام میں اصل چیز دل ہے، یہاں دل ایک تبدیلی پر رضا مند ہو جاتا ہے اور کسی بات پر قرار پکڑ لیتا ہے،بس باقی تمام چیزیںیا جسم اس کے سوا کچھ نہیں کرتا کہ وہ اس تبدیلی کی تائید کے لیے وقف ہو جائے۔ ہمیں اسلام کے قدیم اور جدید مبلغوں میں واضح فرق نظر آیا ہے، قدیم مبلغ غیر مسلموں کے دلوں کو اپنی للہیت، بے نفسی، خوش خلقی اور احسان و مروت کی جادو اثر اداؤں سے گر ویدہ کرتے تھے اور اس طرح ہزار ہا لوگ خود بخود بغیر کسی بحث وتکرار کے، ان کے رنگ میں رنگے جاتے تھے، مگر جدید مبلغوں کا سارا زور دماغ کی تبدیلی پر مرکوز ہوتا ہے وہ صداقت اسلام پر ایک دلیل دیتے ہیں، مقابلے میں دوسری حجت غیر مسلم پیش کر دیتے ہیں، اس پر بحث وتکرار شروع ہو جاتی ہے۔ مسلمان اپنی بات پر اڑ جاتا ہے، غیر مسلم اپنے قول پر تن جاتا ہے، اس سے ضد پیدا ہوتی ہے اور ہدایت ختم ہوجاتی ہے۔ مبلغین اسلام کو دل متاثر کرنے کے لیے نکلنا چاہیے یا دماغ، اس کے فیصلے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی روش کی پیروی کریں۔ غور کرنے سے معلوم ہوگاکہ فطرت اپنی فتوحات حاصل کرنے کے لیے اپنا تعلق ہمیشہ دلوں سے جوڑتی ہے فطرت کھانے میں لذت پیدا کرتی ہے اور آپ اِسے بے اختیارکھا جاتے ہیں، اس وقت ایک بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا، کیا یہ کھانا طبی لحاظ سے مفید ہوگا؟ آپ ایک ضروری کام پر جارہے ہیں کہ ناگہاں پھولوں کا ایک خوشنما با غیچہ دیکھنے سے جو ایک حسین نظارہ سامنے آجاتا ہے، آپ وہاں بے اختیار بیٹھ جاتے ہیں۔ وہیں ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے اور آپ کو میٹھی نیند سلاتا ہے اس وقت کوئی شخص بھی دماغ سے یہ نہیں پوچھتا مجھے سونا چاہیے یا نہیں؟ مختصر یہ کہ فطرت ہر کام میں اسی طرح دلوں کو گرویدہ کر کے اپنا مطلب نکالتی ہے۔ اسلام چونکہ سربسر نورِ فطرت ہے ، اِس واسطے مبلغین ِ اسلام کو چاہیے کہ اخلاق و محبت کی گہرائیوں سے دلوں کو اس طرح شکار کریں کہ ان کی سر کشی اور شکار کی سکت ہی باقی نہ رہے، اس لیے ضروری ہے کہ مبلغین اسلام، اسلامی کردار کی عظمت کے مالک ہوں تاکہ سرکش سے سرکش آدمی بھی اُن کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں۔ باقی رہی دماغی مباحث اور عقلی تکرار ۔ تو اس سے نہ تو دل مطمئن ہو سکتے ہیں، نہ منقلب ہو سکتے ہیں اور نہ فطرت رام ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا۔ اب دیکھئے کہ دل کی دنیا میں کیا ہو جاتا ہے۔ یہ چند ہی سال کا ذکر ہے کہ یہاں ایک ہندو جج کا انتقال ہو گیا۔ اس کے کچھ عرصے بعدیکا یک یہ خبر مشہور ہوئی کہ ان کی بیوی مشرف بہ اسلام ہو رہی ہے۔ یہاں کے ہندئوں کو اس واقعے کی تکلیف ہوئی۔ عورت کے عزیز واقارب جمع ہوئے اور اسے سمجھانے لگے اور سب نے مل کر زور ڈالا کہ وہ مسلمان ہونے کے خیال سے دستبردار ہو جائے، لیکن اس تمام دبائو کے باوجود عورت کے ارادے ذرا بھی متزلزل نہ ہوئے۔ عزیزوں کی ناکامی کے بعد دوسرا قدم جو اٹھایا گیا، وہ یہ تھا کہ ہندو دھرم کے مذہبی پنڈت اورپیشوا بلائے گئے، انہوں نے کتھائیں سنائیں، تاریخی حوالے دیئے، مذہبی احکام بتائے، ہندو دھرم کی دلیلیں پیش کیں۔ تعلیم وتعلم کا یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا، مگر عورت پر ذرا بھی اثر نہ ہوا، اس نے تمام مذہبی احکام سن لیے، آخر میں صرف یہ کہہ دیا کہ میں ضرور مسلمان ہوں گی۔ اب آریہ سماج کے مبلغ بلائے گئے، انہوں نے مخالفت کا دفتر کھولا، مسلمانوں کے مظالم پیش کئے، اسلامی احکام کی تر دید کی، مسلمانوں سے نفرت دلائی، اورنگ زیب اور محمود غزنوی کا ذکر چھیڑا۔ گائے کے نام پر اپیل کی، یہ سلسلہ بھی کئی دن تک جاری رہا، مگر عورت اب بھی اپنے ارادے پر محکم تھی۔ تیسرا قدم یہ تھا کہ عورت کو ڈرایا گیا، زدو کوب اور قتل کی دھمکی دی گئی۔ خوف کے ساتھ، طمع کے مناظر بھی سامنے لائے گئے مگر وہ عورت اب بھی متاثر نہ ہوئی۔ اب سوال وجواب شروع ہوئے۔ عورت سے پوچھا گیا! تم کیوں مسلمان ہوتی ہو؟ کیا تمہیں کسی دولت کی خواہش ہے؟ عورت نے کہا تم دیکھ رہے ہو میرے گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں؟ پھر پوچھا گیا: کیا تمہاری کوئی نفسانی خواہش ہے؟ تم میری عمر کو دیکھ رہے ہو، میں تو اب چند دن کی مہمان ہوں۔ عورت نے جواب دیا۔ پھر پوچھا گیا، کیا کسی مسلمان مولوی یا مبلغ نے تمہیں بہکایا ہے؟ میں زندگی بھر کسی مسلمان مولوی یا مبلغ سے نہیں ملی۔ عورت نے جواب دیا۔ پھر کوئی اسلامی کتاب پڑھی ہوگی؟ رشتے داروں نے پوچھا۔میں نے کوئی اسلامی کتاب دیکھی بھی نہیں۔ عورت نے کہا، لوگ متعجب ہوئے اور انہوں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا! پھر تم کیوں مسلمان ہوتی ہو؟ عورت نے کہا! میرے پتی (خاوند) سالوں سال تک جج رہے، وہ بیسیوں شہروں میں گئے اور میں ان کے ساتھ تھی۔ جس جگہ میں گئی، ہمیشہ اعلیٰ خاندان کی ہندو عورتوں کے ساتھ ہمارا تعلق رہا۔ مسلمان عورتیں بھی کبھی ہمارے گھر میں آتی تھیں، مگر یہ سب خدمت گار ہوتی تھیں، کبھی اصطبل کے بہشتی کی بیوی ہمارے ہاں آجاتی تھی، کبھی دھوبن کی لڑکیاں آجاتی، کبھی کسی مسلمان غریب عورت کوخدمت کے لیے ہم خود بلالیتے تھے، بس اس سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں ہے۔ سامعین میں ذرا اُمید پیدا ہوئی اور انہوں نے کہا! پھر تو کوئی وجہ نہیں کہ تو مسلمان ہو جائے۔ عورت نے بیان کیا! بے شک، جن عورتوں سے میں ملی، وہ اکثر غریب محتاج اور میلی تھیں، متمول گھرانے کی مسلمان عورتوں سے ملنے جلنے کا مجھے اتفاق نہیں ہوا، مگر ہندو عورتیں جن کے ساتھ رات اور دن میری نشست وبرخاست تھی، سب امیر، متمول اور روشن تھیں، اس تفاوت کے باوجود میں نے ہر جگہ ہندو اور مسلمان عورتوں میں ایک واضح فرق دیکھا ۔ اس آخری جملے پر تمام سننے والوں کے دل دھڑکنے لگے، سب کی نگاہیں بے اختیار عورت کی طرف جھک گئیں، ہر شخص حیرت واضطراب کی تصویر بن گیا اور دوسرے جملے کا انتظار کرنے لگا۔ عورت نے اپنے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا! فرق یہ کہ جس قدر بھی ہندو عورتوں سے ملی ہوں، ان کے جسموں سے مجھے ایک قسم کی بدبو ضرور آئی، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی میں نے ہر جگہ دیکھا کہ غریب سے غریب مسلمان عورتوں کے جسم میں بھی یہ بدبومو جود نہ تھی۔ میں اپنے پتی (خاوند) کی زندگی سے لے کر اب تک اس پر غور کرتی رہی ہوں، لیکن سبب معلوم نہیں ہو سکا۔ اب چند روز ہوئے، میں نے اس راز کو معلوم کر لیا ہے اور میں نے معلوم کر لیا ہے کہ مسلمان چونکہ خدا پرست اور ایماندار ہیں، لہذا اُن کی روح پاک ہوتی ہے، اس واسطے اُن کے جسموں سے بو نہیں آتی وہ صاف کپڑے پہنیں یانا صاف، ان کے جسم ضرور بدبو سے پاک ہوتے ہیں، لیکن اس کے بر خلاف ہندو (جو مشرک ہیں ان کی روح پاک نہیں ہے) اس واسطے خواہ وہ کس طرح قدر بھی صاف اور پرتکلف لباس پہنیں، اُن کے جسم بدبو سے پاک نہیں ہوتے۔ اس اعلان کے بعد عورت کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، اس کے چہرے پر جوش ایمان کی سرخیاں دوڑنے لگیں اور اس نے آہ بھری اور بھرائی ہوئی آواز میں اپنے رشتے داروں کو متنبہ کیا۔ مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، میں اسلام اور توحید کے نور سے اپنی روح کو پاک کرنا چاہتی ہوں، اس واسطے ضرور بضرور مسلمان ہوں گی۔ اسی وقت عورت نے غضب ناک رشتے داروں کے سامنے کلمہ پڑھا، وہ عورت کے بیان پر بہت سٹپٹائے مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ عورت اپنے اصرار پر قائم رہی اور بالآخر مسلمان ہوگئی۔ ڈاکٹر اقبال نے فرمایا! شاید بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں گے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبلیغ دین نہیں فرماتے، ایسا سمجھنا مذہب عشق میں داخل خطا کاری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی قوت ایسی نہ تھی جس کو وقتی یازمانی سمجھا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت تک کے لیے پیشوائے انسانیت ہیں، اس کے معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جلال بھی قیامت تک کار فرمائی کرے گا اور جمال بھی۔ آپ قیامت تک کے مجاہد ہیں، قیامت تک کے مبلغ ہیں، قیامت تک کے مصلح ہیں، اور ہمیشہ کے لیے رحمتہ اللعالمین ہیں، بلکہ اس سے بھی آگے، بہت دور تک، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت مبارک موجود ہو نہ ہو، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا روحانی فیض آپ کے وجود باوجود ہی کی طرح زندگی کے ہر میدان میں کار فرما رہتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہماری روحانیت اس قدر لطیف نہیں کہ اپنے زندہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زندگی بخش فیوض کے عمل ودخل کو محسوس کر سکیں۔ اگر کوئی اندھا سورج کو محسوس نہیں کرتا تو اس سے سورج کی عدم موجود گی ثابت نہیں ہو سکتی۔ سوال صرف روحانی مناسبت کا ہے، جہاں کوئی روح مناسب قابلیت حاصل کر لیتی ہے، اس پر اسی وقت بلاتا خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روحانی فیض کا آفتاب طلوع ہو جاتا ہے اور اسی وقت وہ محسوس کر لیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنفس نفیس جہاد کر رہے ہیں، تبلیغ بھی فرما رہے ہیں اور بھولے ہوئے کو راستہ بھی بتا رہے ہیں اور گرتے ہوئے گنہگاروں کو تھام رہے ہیں۔ اب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیض روحانی کی کار فرمائی کو واقعاتی رنگ میں دیکھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: کچھ عرصہ ہوا، ایک دولت مند، تعلیم یافتہ، روشن خیال اور کاروباری ہندو، مولانا اصغر علی روحی پروفیسر اسلامیہ کالج کے پاس آیااور اس نے مولانا سے درخواست کی، آپ ایک الگ کمرے میں آجائیں۔ مولانا اس کی درخواست کے مطابق تنہا کمرے میں چلے آئے اور فرمایا:کیا ارشاد ہے؟ اس نے اسلام سے متعلق استفسار کیا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مولانا نے اسلام کی تلقین کی، خدا کی وحدت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا اور پوچھا:آپ اس طرح تنہائی میں کیوں داخل اسلام ہوئے؟ نووارد نے بیان کیا: میں نے کوئی اسلامی کتاب نہیں پڑھی، کسی مسلمان عالم سے اسلام کو نہیں سمجھا، لیکن خوش قسمتی سے کئی مرتبہ مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی ہے، اب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت میں بے تاب ہوں اور اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوں۔ مولانا نے پوچھا! پھر آپ فیروز پور سے چل کر لاہور کیوں آئے اور کھلے بندوں کیوں اسلام قبول نہ کیا؟ نووارد نے اس سوال کے جواب میں اپنی، تعلیم، ملازمت اور جائیداد وغیرہ کے حالات مولانا کے سامنے بیان کئے اور کہا! ''ان حالات کی بناء پر میں اعلان نہ کرنے سے مجبور ہوں لیکن میں آپ کو اپنے اسلام پر گواہ بنانے آیا ہوں، میں اللہ کی وحدت اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں، آپ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے ایمان کی شہادت دیجئے۔ میری یہ عرصے سے آرزو تھی کہ میں اس دنیا میں کسی ایک مسلمان کو اپنے ایمان کا گواہ بنا لوں، خدا کا شکر ہے کہ آج میری یہ آرزو پوری ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا! ان واقعات سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا وند پاک کیسے کیسے نامعلوم دروازوں سے خلق خدا کو اسلام کی طرف کھینچ رہا ہے۔ یہ چاروں واقعات مجھے معلوم تھے۔ ملک کے ہر حصے میں اسی قسم کے صدہا واقعات روز مرہ پیش آرہے ہیں، ایسے تمام واقعات کو ایک کتاب میں جمع کر دیا جائے تو اس سے اشاعت اسلام کے کام کو بے حد تقویت حاصل ہوسکتی ہے۔ کسی کام کو کرنے کا ذہن میں خیال اور دل میں ارادہ ''نیت'' کہلاتا ہے اور ''عمل'' ہماری اس سوچ ونیت کا ظہور ہے، ہم کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اس کام کے متعلق سوچتے ہیں، دل میں اس کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور بعد میں بذریعہ ''عمل'' اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انسان کے جملہ اعمال وافعال اور حرکات وسکنات (مثبت، منفی) اس کی سوچ اور نیت کا رد عمل ہیں، یعنی انسان کے اچھے، برے اعمال کا انحصار اس کی نیت پر ہے، انسان جیسا سوچتا ہے جیسی نیت کرتا ہے، اس کے اعضاء اس کے تابع ہونے کی وجہ سے ویسا ہی عمل کرتے ہیں۔ انسان اپنی سوچ کا آئینہ ہے وہ جیسا سوچتا ہے ویسا ہی بن جاتا ہے۔ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اچھا اور مثبت سوچیں، اچھے اور نیک کاموں کی نیت کریں تاکہ ہمارے اعضائے جسم سے برے افعال سر زدنہ ہوں، بدنیت اور بد عمل لوگوں کی اس دنیا میں بھی پذیرائی نہیں کی جاتی اور آخرت میں بھی ان سے نفرت کی جائے گی۔ نیک خیال، اچھی سوچ اور صالح اعمال والوں کے لیے اس دنیا میں بھی عزت و کامیابی ہے اور آخرت میں بھی مغفرت واجر عظیم ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ ''جسے حکمت و دانش عطا ہوئی، اسے خیر کثیر مل گئی۔'' حکمت اور دانائی کامل جانا ہمارے لیے اس صورت میںخیر کثیر، بہت فائدے والا ثابت ہوگا جب ہم عقل اور حکمت کی روشنی میں اچھے، برے کاموں کی تمیز کریں۔ اچھی باتوں کی پہچان کر کے، ان کو اپنائیں، اختیار کریں اور بُرے کاموں سے بُری باتوں سے نفرت کریں۔ اگر انسان اچھے اور بُرے کاموں میں تمیز نہیں کرتا یا تمیز کرنے کے باوجود بھی بُرے کام کرتا ہے اور اچھی باتوں کو اختیار نہیں کرتا تو اس کی عقل بے فائدہ اور حکمت بے نتیجہ ہے۔ اپنی سوچ اور نیت کو نیک اور پُر خلوص اور مثبت بنائو تاکہ ہمارے اعضائے جسمانی سے منفی اور غیر محمود افعال سرزدنہ ہوں، ہم برائیوں سے بچتے رہیں، یہی عقلمندی کا تقاضا ہے، یہ سیدھی راہ ہے اور یہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ یاد رکھئیے! انسان کی کامیابی وناکامی اور زندگی میں بہار وخزاں کا انحصار اس کی سوچ اور عمل پر ہے۔ انسان نیک نیتی اور عمل سے اپنی زندگی کو رشک صد بہار بنا سکتا ہے اور بدنیتی و بد عملی سے اپنی زندگی کو تباہ و برباد بھی کر سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر مرحلے پر خلوص نیت اور حسن سلوک کا مظاہرہ کریں۔ ہماری کامیابی، بہتری اور نجات اسی بات میں ہے۔