اگرچہ دنیا بھر کے مغرب نواز میڈیا نے اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اسلام کو تشدد پسند مذہب ثابت کرنے کی لاکھ کوشش کی لیکن اِس کے باوجود حقائق یہ ہیں کہ اسلام بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ روز نامہ ''جنگ'' اخبار کی لندن رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں یومیہ 500سے زائد افراد اسلام قبول کر رہے ہیں اور اسلام قبول کرنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے کیونکہ نائن الیون کے واقعات کے بعد یورپی ممالک اور امریکہ کے عوام میڈیا کے اسلام مخالف پراپیگنڈے کی وجہ سے اسلام کا مطالعہ کرنے لگتے ہیں مگر جب وہ حقائق دیکھتے ہیں تو اُن کی اصلاح ہو جاتی ہے اور وہ متاثر ہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتے ہیں۔ نو مسلم خواتین کے مطابق اسلام میں خواتین کے لیے مضبوط تحفظ موجود ہے جو کسی بھی مذہب میں نہیں ملتا۔ گذشتہ دنوں دو مختلف خاندانوں نے اسلام قبول کیا ہے جس کی تفصیلات ذیل میں شائع کی جا رہی ہیں۔ شہباز احمد کے قبول اسلام کی تفصیلات محمد شاہد حسین مدنی خطیب جامع مسجد صابریہ ونڈوالہ روڈ شاہدرہ لاہور نے ارسال کی ہیں۔
شہباز احمد کا قبولِ اسلام: ١٩٧٤ء میں پیدا ہونے والا شاہدرہ ، لاہور کا رہائشی شہباز احمد جب شعور کی منزل تک پہنچاتو اُسے معلوم ہوا کہ وہ عیسائی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عیسائی ہے۔ طبیعت میں سادگی اور سوچ میں تذبذب کی وجہ سے تعلیم منقطع کر کے ڈرائیونگ سیکھ لی اور مختلف جگہ پر نوکری کرتا رہا۔ عیسائیت کے دوران اُسے بعض مسلمان دوستوں سے اسلام کی حقیقی اور سچی تعلیمات کا مشاہدہ نظر آیا تو ایک دن یکلخت اُس کے ذہن و ضمیر کی دنیا پلٹ گئی اور اُس نے حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کا فیصلہ کر لیا مگر یہاں ایک بہت بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنا ایک متوقع بات تھی لہذا شہباز نے اپنی بیوی سے جب اِس فیصلے کا تذکرہ کیا تو وہ اُسے فوراً چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے پاس چلی گئی اور اُس نے اپنے تین معصوم بچوں کا خیال بھی نہیں کیا جنہیں سنبھالنا شہباز کے لیے آسان نہ تھا مگر شہباز نے تقریباً ایک سال تک توقف کرتے ہوئے گومگو کی کیفیت میں وقت گذارا اور ایک سال کی چھوٹی بچی کو بمشکل پالتا رہا۔ بالآخر ایک دن شہباز نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے دوستوں میں سرفہرست ملک شاہد کے ساتھ بات کی جو ونڈوالہ بازار شاہدرہ لاہور میں کڑھائی کا کام کرتا ہے۔ جس پر ملک شاہد نے راقم الحروف کو بذریعہ ٹیلی فون یہ خوشخبری سنائی اور آپس میں مشورہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جامعہ نظامیہ جا کر اسلام قبول کرتے ہیں کیونکہ شہباز سرکاری ملازم تھا اور اُسے کاغذات بنوانے کے لیے باقاعدہ ثبوت کی ضرورت درپیش رہے گی۔ ہم شہباز اور اُس کے تینوں بچوں کے ساتھ جامعہ نظامیہ پہنچے جہاں مفتی عبدالستار سعیدی صاحب کی موجودگی میں شہباز احمد نے مورخہ 28جنوری 2008ء کو اسلام قبول کر لیا اور اُس کا نام ''شہباز احمد'' رکھا گیا جبکہ اُس کے بڑے بیٹے بعمر 6سالہ کا نام ''محمد ابو بکر'' اور چھوٹے بیٹے بعمر 4سالہ کا نام ''محمد عمر'' اور بیٹی بعمر دو سالہ کا نام ''بشریٰ'' رکھ دیا گیا۔ شہباز احمد نے اسلام قبول کر لیا مگر اُس کے خاندان والے سخت ناراض ہو چکے ہیں۔ والد، بھائی اور رشتہ دار بات چیت کرنا ترک کر چکے ہیں تاہم والدہ کی طرف سے کچھ نرمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ شہباز احمد مکمل استقامت کے ساتھ خوش و مطمئن ہے اور اُس کا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ ایک دن اپنے بھائیوں اور والدین کو بھی حلقہ بگوش اسلام کر لوں گا۔
غلام حسین کی سابقہ بیوی، بیٹے اور بہو کا قبول اسلام: نومبر 2004ئ کے آخری دنوں ''بنیا مین فراز'' سکنہ کرسچین ٹاؤن فیصل آباد حضرت کرماں والا شریف میں حلقہ بگوشِ اسلام ہوا تو اُس کا نام ''غلام حسین'' تجویز کیا گیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے پہل کچھ عرصہ اپنے گھر والوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر پھر اُن کے روّیے میں سختی کی وجہ سے اور نقصان کے ڈر سے اُس نے تعلق ختم کر دیا اور میانوالی میں جا کر رہائش اختیار کر لی تاہم تین سال سے زائد عرصہ گذرنے کے بعد جب اُسے معلوم ہوا کہ اُس کی سابقہ بیوی ، بیٹا اور اُس کی بہو اسلام میں داخل ہونے کے لیے تیار ہو گئے ہیں تو اُس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اورفوراً حضرت کرماں والا شریف حاضر ہو گیا۔ جب اُس کی ملاقات بابا جی سےّد میر طیب علی شاہ بخاری دامت برکاتہم العالیہ سے ہوئی تو اُس نے تمام صورتحال گوش گذار کرنے کے بعد اُنہیں بھی یہاں لانے کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر اگلے دن ہی وہ اپنی سابقہ بیوی، بیٹے اور بہو کے ساتھ حاضر ہوا اور مورخہ 9فروری 2008ء کو اُس کے بیٹے سرفراز جاوید، بیوی اور بہو نے اسلام قبول کر لیا جس کے بعد غلام حسین اور اُس کی نومسلم بیوی کا نکاح دوبارہ پڑھا دیا گیا اور اِسی طرح سرفراز جاوید اور اُس کی سابقہ بیوی کا نکاح اُسکے ساتھ دوبارہ پڑھایا گیا۔ معلومات اور حقائق کے مطابق بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بدل لیا ہے مگر اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اُن کی خاطر خود کو تبدیل کرتے ہوئے اُن کے ساتھ معاشرتی، معاشی اور دیگر تعاون کے دروازے کھول دیں۔ چنانچہ اِس مقصد کے لیے طےّبی فاؤنڈیشن،بیلی فاؤنڈیشن اور بلیسنگ ہینڈ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے نومسلم بھائیوں اور بہنوں کو اِس بات کا احساس اور تحفظ فراہم کریں کہ اُنہوں نے اسلام کو اپنے دین کے طور پر منتخب کر کے ایک بہت اچھا اور بہترین اقدام کیا ہے جس کا فائدہ اُنہیں دنیا و آخرت میں بے حد و شمار ہے۔